Ahl-e-Islam

Home / Quran / Surah An-Naml

Surah An-Naml — النَّمْلِ

Surah 27 • 93 Ayat • Makki

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بہت مہربان رحمت والا

طسٓ تِلْكَ ءَايَٰتُ ٱلْقُرْءَانِ وَكِتَابٍ مُّبِينٍ ١

یہ آیتیں ہیں قرآن اور روشن کتاب کی

هُدًى وَبُشْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِينَ ٢

ہدایت اور خوشخبری ایمان والوں کو،

ٱلَّذِينَ يُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤْتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَهُم بِٱلْـَٔاخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ ٣

وہ جو نماز برپا رکھتے ہیں اور زکوٰة دیتے ہیں اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں،

إِنَّ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْـَٔاخِرَةِ زَيَّنَّا لَهُمْ أَعْمَٰلَهُمْ فَهُمْ يَعْمَهُونَ ٤

وہ جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم نے ان کے کوتک (برے اعمال) ان کی نگاہ میں بھلے کر دکھائے ہیں

أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ لَهُمْ سُوٓءُ ٱلْعَذَابِ وَهُمْ فِى ٱلْـَٔاخِرَةِ هُمُ ٱلْأَخْسَرُونَ ٥

تو وہ بھٹک رہے ہیں یہ وہ ہیں جن کے لیے برا عذاب ہے اور یہی آخرت میں سب سے بڑھ کر نقصان میں

وَإِنَّكَ لَتُلَقَّى ٱلْقُرْءَانَ مِن لَّدُنْ حَكِيمٍ عَلِيمٍ ٦

اور بیشک تم قرآن سکھائے جاتے اور حکمت والے علم والے کی طرف سے

إِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِأَهْلِهِۦٓ إِنِّىٓ ءَانَسْتُ نَارًا سَـَٔاتِيكُم مِّنْهَا بِخَبَرٍ أَوْ ءَاتِيكُم بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُونَ ٧

جب کہ موسیٰ نے اپنی گھر والی سے کہا مجھے ایک آگ نظر پڑی ہے عنقریب میں تمہارے پاس اس کی کوئی خبر لاتا ہوں یا اس میں سے کوئی چمکتی چنگاری لاؤں گا کہ تم تاپو

فَلَمَّا جَآءَهَا نُودِىَ أَنۢ بُورِكَ مَن فِى ٱلنَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا وَسُبْحَٰنَ ٱللَّهِ رَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ ٨

پھر جب آگ کے پاس آیا ندا کی گئی کہ برکت دیا گیا وہ جو اس آگ کی جلوہ گاہ میں ہے یعنی موسیٰ اور جو اس کے آس پاس میں یعنی فرشتے اور پاکی ہے اللہ کو جو رب ہے سارے جہان کا،

يَٰمُوسَىٰٓ إِنَّهُۥٓ أَنَا ٱللَّهُ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ ٩

اے موسیٰ بات یہ ہے کہ میں ہی ہوں اللہ عزت والا حکمت والا،

وَأَلْقِ عَصَاكَ فَلَمَّا رَءَاهَا تَهْتَزُّ كَأَنَّهَا جَآنٌّ وَلَّىٰ مُدْبِرًا وَلَمْ يُعَقِّبْ يَٰمُوسَىٰ لَا تَخَفْ إِنِّى لَا يَخَافُ لَدَىَّ ٱلْمُرْسَلُونَ ١٠

اور اپنا عصا ڈال دے پھر موسیٰ نے اسے دیکھا لہراتا ہوا گویا سانپ ہے پیٹھ پھیر کر چلا اور مڑ کر نہ دیکھا، ہم نے فرمایا اے موسیٰ ڈر نہیں، بیشک میرے حضور رسولوں کو خوف نہیں ہوتا

إِلَّا مَن ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًۢا بَعْدَ سُوٓءٍ فَإِنِّى غَفُورٌ رَّحِيمٌ ١١

ہاں جو کوئی ز یادتی کرے پھر برائی کے بعد بھلائی سے بدلے تو بیشک میں بخشنے والا مہربان ہوں

وَأَدْخِلْ يَدَكَ فِى جَيْبِكَ تَخْرُجْ بَيْضَآءَ مِنْ غَيْرِ سُوٓءٍ فِى تِسْعِ ءَايَٰتٍ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَقَوْمِهِۦٓ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ قَوْمًا فَٰسِقِينَ ١٢

اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال نکلے گا سفید چمکتا بے عیب نو نشانیوں میں فرعون اور اس کی قوم کی طرف، بیشک وہ بے حکم لوگ ہیں،

فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ ءَايَٰتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوا۟ هَٰذَا سِحْرٌ مُّبِينٌ ١٣

پھر جب ہماری نشانیاں آنکھیں کھولتی ان کے پاس آئیں بولے یہ تو صریح جادو ہے،

وَجَحَدُوا۟ بِهَا وَٱسْتَيْقَنَتْهَآ أَنفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا فَٱنظُرْ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلْمُفْسِدِينَ ١٤

اور ان کے منکر ہوئے اور ان کے دلوں میں ان کا یقین تھا ظلم اور تکبر سے تو دیکھو کیسا انجام ہوا فسادیوں کا

وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا دَاوُۥدَ وَسُلَيْمَٰنَ عِلْمًا وَقَالَا ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ٱلَّذِى فَضَّلَنَا عَلَىٰ كَثِيرٍ مِّنْ عِبَادِهِ ٱلْمُؤْمِنِينَ ١٥

اور بیشک ہم نے داؤد اور سلیمان کو بڑا علم عطا فرمایا اور دونوں نے کہا سب خوبیاں اللہ کو جس نے ہمیں اپنے بہت سے ایمان والے بندوں پر فضیلت بخشی

وَوَرِثَ سُلَيْمَٰنُ دَاوُۥدَ وَقَالَ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ عُلِّمْنَا مَنطِقَ ٱلطَّيْرِ وَأُوتِينَا مِن كُلِّ شَىْءٍ إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ ٱلْفَضْلُ ٱلْمُبِينُ ١٦

اور سلیمان داؤد کا جانشین ہوا اور کہا اے لوگو! ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی اور ہر چیز میں سے ہم کو عطا ہوا بیشک یہی ظاہر فضل ہے

وَحُشِرَ لِسُلَيْمَٰنَ جُنُودُهُۥ مِنَ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنسِ وَٱلطَّيْرِ فَهُمْ يُوزَعُونَ ١٧

اور جمع کیے گئے سلیمان کے لیے اس کے لشکر جنوں اور آدمیوں اور پرندوں سے تو وہ روکے جاتے تھے

حَتَّىٰٓ إِذَآ أَتَوْا۟ عَلَىٰ وَادِ ٱلنَّمْلِ قَالَتْ نَمْلَةٌ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّمْلُ ٱدْخُلُوا۟ مَسَٰكِنَكُمْ لَا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمَٰنُ وَجُنُودُهُۥ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ ١٨

یہاں تک کہ جب چیونٹیوں کے نالے پر آئے ایک چیونٹی بولی اے چیونٹیو! اپنے گھروں میں چلی جاؤ تمہیں کچل نہ ڈالیں سلیمان اور ان کے لشکر بے خبری میں

فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّن قَوْلِهَا وَقَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِىٓ أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ ٱلَّتِىٓ أَنْعَمْتَ عَلَىَّ وَعَلَىٰ وَٰلِدَىَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَٰلِحًا تَرْضَىٰهُ وَأَدْخِلْنِى بِرَحْمَتِكَ فِى عِبَادِكَ ٱلصَّٰلِحِينَ ١٩

تو اس کی بات مسکرا کر ہنسا اور عرض کی اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ میں شکر کروں تیرے احسان کا جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے اور یہ کہ میں وہ بھلا کام کرو ں جو تجھے پسند آئے اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے ان بندوں میں شامل کر جو تیرے قرب خاص کے سزاوار ہیں

وَتَفَقَّدَ ٱلطَّيْرَ فَقَالَ مَا لِىَ لَآ أَرَى ٱلْهُدْهُدَ أَمْ كَانَ مِنَ ٱلْغَآئِبِينَ ٢٠

اور پرندوں کا جائزہ لیا تو بولا مجھے کیا ہوا کہ میں ہد ہد کو نہیں دیکھتا یا وہ واقعی حاضر نہیں،

لَأُعَذِّبَنَّهُۥ عَذَابًا شَدِيدًا أَوْ لَأَا۟ذْبَحَنَّهُۥٓ أَوْ لَيَأْتِيَنِّى بِسُلْطَٰنٍ مُّبِينٍ ٢١

ضرور میں اسے سخت عذاب کرو ں گا یا ذبح کردوں گا یا کوئی روشن سند میرے پاس لائے

فَمَكَثَ غَيْرَ بَعِيدٍ فَقَالَ أَحَطتُ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهِۦ وَجِئْتُكَ مِن سَبَإٍۭ بِنَبَإٍ يَقِينٍ ٢٢

تو ہد ہد کچھ زیادہ دیر نہ ٹھہرا اور آکر عرض کی کہ میں وہ بات دیکھ کر آیا ہوں جو حضور نے نہ دیکھی اور میں شہر سبا سے حضور کے پاس ایک یقینی خبر لایا ہوں،

إِنِّى وَجَدتُّ ٱمْرَأَةً تَمْلِكُهُمْ وَأُوتِيَتْ مِن كُلِّ شَىْءٍ وَلَهَا عَرْشٌ عَظِيمٌ ٢٣

میں نے ایک عورت دیکھی کہ ان پر بادشاہی کررہی ہے اور اسے ہر چیز میں سے ملا ہے اور اس کا بڑا تخت ہے

وَجَدتُّهَا وَقَوْمَهَا يَسْجُدُونَ لِلشَّمْسِ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَزَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيْطَٰنُ أَعْمَٰلَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ ٱلسَّبِيلِ فَهُمْ لَا يَهْتَدُونَ ٢٤

میں نے اسے اور اس کی قوم کو پایا کہ اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں اور شیطان نے ان کے اعمانل ان کی نگاہ میں سنوار کر ان کو سیدھی راہ سے روک دیا تو وہ راہ نہیں پاتے،

أَلَّا يَسْجُدُوا۟ لِلَّهِ ٱلَّذِى يُخْرِجُ ٱلْخَبْءَ فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَيَعْلَمُ مَا تُخْفُونَ وَمَا تُعْلِنُونَ ٢٥

کیوں نہیں سجدہ کرتے اللہ کو جو نکالتا ہے آسمانوں اور زمین کی چھپی چیزیں اور جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو اور ظاہر کرتے ہو

ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ ٱلْعَرْشِ ٱلْعَظِيمِ ٢٦

اللہ ہے کہ اس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں وہ بڑے عرش کا مالک ہے، السجد ة۔۸)

قَالَ سَنَنظُرُ أَصَدَقْتَ أَمْ كُنتَ مِنَ ٱلْكَٰذِبِينَ ٢٧

سلیمان نے فرمایا اب ہم دیکھیں گے کہ تو نے سچ کہا یا تو جھوٹوں میں ہے

ٱذْهَب بِّكِتَٰبِى هَٰذَا فَأَلْقِهْ إِلَيْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَٱنظُرْ مَاذَا يَرْجِعُونَ ٢٨

میرا یہ فرمان لے جان کر ان پر ڈال پھر ان سے الگ ہٹ کر دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں

قَالَتْ يَٰٓأَيُّهَا ٱلْمَلَؤُا۟ إِنِّىٓ أُلْقِىَ إِلَىَّ كِتَٰبٌ كَرِيمٌ ٢٩

وہ عورت بولی اے سردارو! بیشک میری طرف ایک عزت والا خط ڈالا گیا

إِنَّهُۥ مِن سُلَيْمَٰنَ وَإِنَّهُۥ بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ ٣٠

بیشک وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور بیشک وہ اللہ کے نام سے ہے نہایت مہربان رحم والا،

أَلَّا تَعْلُوا۟ عَلَىَّ وَأْتُونِى مُسْلِمِينَ ٣١

یہ کہ مجھ پر بلندی نہ چاہو اور گردن رکھتے میرے حضور حاضر ہو

قَالَتْ يَٰٓأَيُّهَا ٱلْمَلَؤُا۟ أَفْتُونِى فِىٓ أَمْرِى مَا كُنتُ قَاطِعَةً أَمْرًا حَتَّىٰ تَشْهَدُونِ ٣٢

بولی اے سردارو! میرے اس معاملے میں مجھے رائے دو میں کسی معاملے میں کوئی قطعی فیصلہ نہیں کرتی جب تک تم میرے پاس حاضر نہ ہو،

قَالُوا۟ نَحْنُ أُو۟لُوا۟ قُوَّةٍ وَأُو۟لُوا۟ بَأْسٍ شَدِيدٍ وَٱلْأَمْرُ إِلَيْكِ فَٱنظُرِى مَاذَا تَأْمُرِينَ ٣٣

وہ بولے ہم زور والے اور بڑی سخت لڑائی والے ہیں اور اختیار تیرا ہے تو نظر کر کہ کیا حکم دیتی ہے

قَالَتْ إِنَّ ٱلْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُوا۟ قَرْيَةً أَفْسَدُوهَا وَجَعَلُوٓا۟ أَعِزَّةَ أَهْلِهَآ أَذِلَّةً وَكَذَٰلِكَ يَفْعَلُونَ ٣٤

بولی بیشک بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں اسے تباہ کردیتے ہیں اور اس کے عزت والوں کو ذلیل اور ایسا ہی کرتے ہیں

وَإِنِّى مُرْسِلَةٌ إِلَيْهِم بِهَدِيَّةٍ فَنَاظِرَةٌۢ بِمَ يَرْجِعُ ٱلْمُرْسَلُونَ ٣٥

اور میں ان کی طرف ایک تحفہ بھیجنے والی ہوں پھر دیکھوں گی کہ ایلچی کیا جواب لے کر پلٹے

فَلَمَّا جَآءَ سُلَيْمَٰنَ قَالَ أَتُمِدُّونَنِ بِمَالٍ فَمَآ ءَاتَىٰنِۦَ ٱللَّهُ خَيْرٌ مِّمَّآ ءَاتَىٰكُم بَلْ أَنتُم بِهَدِيَّتِكُمْ تَفْرَحُونَ ٣٦

پھر جب وہ سلیمان کے پاس آیا فرمایا کیا مال سے میری مدد کرتے ہو تو جو مجھے اللہ نے دیا وہ بہتر ہے اس سے جو تمہیں دیا بلکہ تمہیں اپنے تحفہ پر خوش ہوتے ہو

ٱرْجِعْ إِلَيْهِمْ فَلَنَأْتِيَنَّهُم بِجُنُودٍ لَّا قِبَلَ لَهُم بِهَا وَلَنُخْرِجَنَّهُم مِّنْهَآ أَذِلَّةً وَهُمْ صَٰغِرُونَ ٣٧

پلٹ جا ان کی طرف تو ضرور ہم ان پر وہ لشکر لائیں گے جن کی انہیں طاقت نہ ہوگی اور ضرور ہم ان کو اس شہر سے ذلیل کرکے نکال دیں گے یوں کہ وہ پست ہوں گے

قَالَ يَٰٓأَيُّهَا ٱلْمَلَؤُا۟ أَيُّكُمْ يَأْتِينِى بِعَرْشِهَا قَبْلَ أَن يَأْتُونِى مُسْلِمِينَ ٣٨

سلیمان نے فرمایا، اے درباریو! تم میں کون ہے کہ وہ اس کا تخت میرے پاس لے آئے قبل اس کے کہ وہ میرے حضور مطیع ہوکر حاضر ہوں

قَالَ عِفْرِيتٌ مِّنَ ٱلْجِنِّ أَنَا۠ ءَاتِيكَ بِهِۦ قَبْلَ أَن تَقُومَ مِن مَّقَامِكَ وَإِنِّى عَلَيْهِ لَقَوِىٌّ أَمِينٌ ٣٩

ایک بڑا خبیث جن بولا کہ میں وہ تخت حضور میں حاضر کردوں گا قبل اس کے کہ حضور اجلاس برخاست کریں اور میں بیشک اس پر قوت والا امانتدار ہوں

قَالَ ٱلَّذِى عِندَهُۥ عِلْمٌ مِّنَ ٱلْكِتَٰبِ أَنَا۠ ءَاتِيكَ بِهِۦ قَبْلَ أَن يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ فَلَمَّا رَءَاهُ مُسْتَقِرًّا عِندَهُۥ قَالَ هَٰذَا مِن فَضْلِ رَبِّى لِيَبْلُوَنِىٓ ءَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ وَمَن شَكَرَ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِۦ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّى غَنِىٌّ كَرِيمٌ ٤٠

اس نے عرض کی جس کے پاس کتاب کا علم تھا کہ میں اسے حضور میں حاضر کردوں گا ایک پل مارنے سے پہلے پھر جب سلیمان نے تخت کو اپنے پاس رکھا دیکھا کہ یہ میرے رب کے فضل سے ہے، تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری، اور جو شکر کرے وہ اپنے بھلے کو شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرے تو میرا رب بے پرواہ ہے سب خوبیوں والا،

قَالَ نَكِّرُوا۟ لَهَا عَرْشَهَا نَنظُرْ أَتَهْتَدِىٓ أَمْ تَكُونُ مِنَ ٱلَّذِينَ لَا يَهْتَدُونَ ٤١

سلیمان نے حکم دیا عورت کا تخت اس کے سامنے وضع بدل کر بیگانہ کردو کہ ہم دیکھیں کہ وہ راہ پاتی ہے یا ان میں ہوتی ہے جو ناواقف رہے،

فَلَمَّا جَآءَتْ قِيلَ أَهَٰكَذَا عَرْشُكِ قَالَتْ كَأَنَّهُۥ هُوَ وَأُوتِينَا ٱلْعِلْمَ مِن قَبْلِهَا وَكُنَّا مُسْلِمِينَ ٤٢

پھر جب وہ آئی اس سے کہا گیا کیا تیرا تخت ایسا ہی ہے، بولی گویا یہ وہی ہے اور ہم کو اس واقعہ سے پہلے خبر مل چکی اور ہم فرمانبردار ہوئے

وَصَدَّهَا مَا كَانَت تَّعْبُدُ مِن دُونِ ٱللَّهِ إِنَّهَا كَانَتْ مِن قَوْمٍ كَٰفِرِينَ ٤٣

اور اسے روکا اس چیز نے جسے وہ اللہ کے سوا پوجتی تھی، بیشک وہ کافر لوگوں میں سے تھی،

قِيلَ لَهَا ٱدْخُلِى ٱلصَّرْحَ فَلَمَّا رَأَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَكَشَفَتْ عَن سَاقَيْهَا قَالَ إِنَّهُۥ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّن قَوَارِيرَ قَالَتْ رَبِّ إِنِّى ظَلَمْتُ نَفْسِى وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمَٰنَ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ ٤٤

اس سے کہا گیا صحن میں آ پھر جب اس نے اسے دیکھا گہرا پانی سمجھی اور اپنی ساقیں کھولیں سلیمان نے فرمایا یہ تو ایک چکنا صحن ہے شیشوں جڑا عورت نے عرض کی اے میرے رب! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور اب سلیمانے کے ساتھ اللہ کے حضور گردن رکھتی ہوں جو رب سارے جہان کا

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَآ إِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَٰلِحًا أَنِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ فَإِذَا هُمْ فَرِيقَانِ يَخْتَصِمُونَ ٤٥

اور بیشک ہم نے ثمود کی طرف ان کے ہم قوم صالح کو بھیجا کہ اللہ کو پوجو تو جبھی وہ دو گروہ ہوگئے جھگڑا کرتے

قَالَ يَٰقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُونَ بِٱلسَّيِّئَةِ قَبْلَ ٱلْحَسَنَةِ لَوْلَا تَسْتَغْفِرُونَ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ ٤٦

صا لح نے فرمایا اے میری قوم! کیوں برائی کی جلدی کرتے ہو بھلائی سے پہلے اللہ سے بخشش کیوں نہیں مانگتے شاید تم پر رحم ہو

قَالُوا۟ ٱطَّيَّرْنَا بِكَ وَبِمَن مَّعَكَ قَالَ طَٰٓئِرُكُمْ عِندَ ٱللَّهِ بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُونَ ٤٧

بولے ہم نے برُا شگون کیا تم سے اور تمہارے ساتھیوں سے فرمایا تمہاری بدشگونی اللہ کے پاس ہے بلکہ تم لوگ فتنے میں پڑے ہو

وَكَانَ فِى ٱلْمَدِينَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُفْسِدُونَ فِى ٱلْأَرْضِ وَلَا يُصْلِحُونَ ٤٨

اور شہر میں نو شخص تھے کہ زمین میں فساد کرتے اور سنوار نہ چاہتے،

قَالُوا۟ تَقَاسَمُوا۟ بِٱللَّهِ لَنُبَيِّتَنَّهُۥ وَأَهْلَهُۥ ثُمَّ لَنَقُولَنَّ لِوَلِيِّهِۦ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ أَهْلِهِۦ وَإِنَّا لَصَٰدِقُونَ ٤٩

آپس میں اللہ کی قسمیں کھا کر بولے ہم ضرور رات کو چھاپا ماریں گے صا لح اور اس کے گھر والوں پر پھر اس کے وارث سے کہیں گے اس گھر والوں کے قتل کے وقت ہم حاضر نہ تھے اور بیشک ہم سچے ہیں،

وَمَكَرُوا۟ مَكْرًا وَمَكَرْنَا مَكْرًا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ ٥٠

او رانہوں نے اپنا سا مکر کیا اور ہم نے اپنی خفیہ تدبیر فرمائی اور وہ غافل رہے،

فَٱنظُرْ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ مَكْرِهِمْ أَنَّا دَمَّرْنَٰهُمْ وَقَوْمَهُمْ أَجْمَعِينَ ٥١

تو دیکھو کیسا انجام ہوا ان کے مکر کا ہم نے ہلاک کردیا انہیں اور ان کی ساری قوم کو

فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خَاوِيَةًۢ بِمَا ظَلَمُوٓا۟ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَةً لِّقَوْمٍ يَعْلَمُونَ ٥٢

تو یہ ہیں ان کے گھر ڈھے پڑے بدلہ ان کے ظلم کا، بیشک اس میں نشانی ہے جاننے والوں کے لیے،

وَأَنجَيْنَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَكَانُوا۟ يَتَّقُونَ ٥٣

اور ہم نے ان کو بچالیا جو ایمان لائے اور ڈرتے تھے

وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِۦٓ أَتَأْتُونَ ٱلْفَٰحِشَةَ وَأَنتُمْ تُبْصِرُونَ ٥٤

اور لوط کو جب اس نے اپنی قوم سے کہا کیا بے حیائی پر آتے ہو اور تم سوجھ رہے ہو

أَئِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ ٱلرِّجَالَ شَهْوَةً مِّن دُونِ ٱلنِّسَآءِ بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ ٥٥

کیا تم مردوں کے پاس مستی سے جاتے ہو عورتیں چھوڑ کر بلکہ تم جاہل لوگ ہو

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِۦٓ إِلَّآ أَن قَالُوٓا۟ أَخْرِجُوٓا۟ ءَالَ لُوطٍ مِّن قَرْيَتِكُمْ إِنَّهُمْ أُنَاسٌ يَتَطَهَّرُونَ ٥٦

تو اس کی قوم کا کچھ جواب نہ تھا مگر یہ کہ بولے لوط کے گھرانے کو اپنی بستی سے نکال دو یہ لوگ تو ستھراپن چاہتے ہیں

فَأَنجَيْنَٰهُ وَأَهْلَهُۥٓ إِلَّا ٱمْرَأَتَهُۥ قَدَّرْنَٰهَا مِنَ ٱلْغَٰبِرِينَ ٥٧

تو ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو نجات دی مگر اس کی عورت کو ہم نے ٹھہرادیا تھا کہ وہ رہ جانے والوں میں ہے

وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَرًا فَسَآءَ مَطَرُ ٱلْمُنذَرِينَ ٥٨

اور ہم نے ان پر ایک برساؤ برسایا تو کیا ہی برا برساؤ تھا ڈرا ئے ہوؤں کا،

قُلِ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ وَسَلَٰمٌ عَلَىٰ عِبَادِهِ ٱلَّذِينَ ٱصْطَفَىٰٓ ءَآللَّهُ خَيْرٌ أَمَّا يُشْرِكُونَ ٥٩

تم کہو سب خوبیاں اللہ کو اور سلام اس کے چنے ہوئے بندے پر کیا اللہ بہتر یا ان کے ساختہ شریک

أَمَّنْ خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَأَنزَلَ لَكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءً فَأَنۢبَتْنَا بِهِۦ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ مَّا كَانَ لَكُمْ أَن تُنۢبِتُوا۟ شَجَرَهَآ أَءِلَٰهٌ مَّعَ ٱللَّهِ بَلْ هُمْ قَوْمٌ يَعْدِلُونَ ٦٠

ا وہ جس نے آسمان و زمین بنائے اور تمہارے لیے آسمان سے پانی اتارا تو ہم نے اس سے باغ اگائے رونق والے تمہاری طاقت نہ تھی کہ ان کے پیڑ اگاتے کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا ہے بلکہ وہ لوگ راہ سے کتراتے ہیں

أَمَّن جَعَلَ ٱلْأَرْضَ قَرَارًا وَجَعَلَ خِلَٰلَهَآ أَنْهَٰرًا وَجَعَلَ لَهَا رَوَٰسِىَ وَجَعَلَ بَيْنَ ٱلْبَحْرَيْنِ حَاجِزًا أَءِلَٰهٌ مَّعَ ٱللَّهِ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ٦١

یا وہ جس نے زمین بسنے کو بنائی اور اس کے بیچ میں نہریں نکالیں اور اس کے لیے لنگر بنائے اور دونوں سمندروں میں آڑ رکھی کیا اللہ کے ساتھ اور خدا ہے، بلکہ ان میں اکثر جاہل ہیں

أَمَّن يُجِيبُ ٱلْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ ٱلسُّوٓءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَآءَ ٱلْأَرْضِ أَءِلَٰهٌ مَّعَ ٱللَّهِ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ ٦٢

یا وہ جو لاچار کی سنتا ہے جب اسے پکارے اور دور کردیتا ہے برائی اور تمہیں زمین کا وارث کرتا ہے کیا اللہ کے ساتھ اور خدا ہے، بہت ہی کم دھیان کرتے ہو،

أَمَّن يَهْدِيكُمْ فِى ظُلُمَٰتِ ٱلْبَرِّ وَٱلْبَحْرِ وَمَن يُرْسِلُ ٱلرِّيَٰحَ بُشْرًۢا بَيْنَ يَدَىْ رَحْمَتِهِۦٓ أَءِلَٰهٌ مَّعَ ٱللَّهِ تَعَٰلَى ٱللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ ٦٣

یا وہ جو تمہیں راہ دکھاتا ہے اندھیریوں میں خشکی اور تری کی اور وہ کہ ہوائیں بھیجتا ہے، اپنی رحمت کے آگے خوشحبری سناتی کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا ہے، برتر ہے اللہ ان کے شرک سے،

أَمَّن يَبْدَؤُا۟ ٱلْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥ وَمَن يَرْزُقُكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلْأَرْضِ أَءِلَٰهٌ مَّعَ ٱللَّهِ قُلْ هَاتُوا۟ بُرْهَٰنَكُمْ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ ٦٤

یا وہ جو خلق کی ابتداء فرماتا ہے پھر اسے دوبارہ بنائے گا اور وہ جو تمہیں آسمانوں اور زمین سے روزی دیتا ہے کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا ہے، تم فرماؤ کہ اپنی دلیل لاؤ اگر تم سچے ہو

قُل لَّا يَعْلَمُ مَن فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ٱلْغَيْبَ إِلَّا ٱللَّهُ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ ٦٥

تم فرماؤ غیب نہیں جانتے جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہیں مگر اللہ اور انہیں خبر نہیں کہ کب اٹھا ےٴ جائیں گے،

بَلِ ٱدَّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِى ٱلْـَٔاخِرَةِ بَلْ هُمْ فِى شَكٍّ مِّنْهَا بَلْ هُم مِّنْهَا عَمُونَ ٦٦

کیا ان کے علم کا سلسلہ آخرت کے جانے تک پہو نچ گیا کوئی نہیں وہ اس کی طرف سے شک میں ہیں بلکہ وہ اس سے اندھے ہیں،

وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ أَءِذَا كُنَّا تُرَٰبًا وَءَابَآؤُنَآ أَئِنَّا لَمُخْرَجُونَ ٦٧

اور کافر بولے کیا جب ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی ہوجائیں گے کیا ہم پھر نکالے جائیں گے

لَقَدْ وُعِدْنَا هَٰذَا نَحْنُ وَءَابَآؤُنَا مِن قَبْلُ إِنْ هَٰذَآ إِلَّآ أَسَٰطِيرُ ٱلْأَوَّلِينَ ٦٨

بیشک اس کا وعدہ دیا گیا ہم کو اور ہم سے پہلے ہمارے باپ داداؤں کو یہ تو نہیں مگر اگلوں کی کہانیاں،

قُلْ سِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ فَٱنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلْمُجْرِمِينَ ٦٩

تم فرماؤ زمین میں چل کر دیکھو، کیسا ہوا نجام مجرموں کا

وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَلَا تَكُن فِى ضَيْقٍ مِّمَّا يَمْكُرُونَ ٧٠

اور تم ان پر غم نہ کھاؤ اور ان کے مکر سے دل تنگ نہ ہو

وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَٰذَا ٱلْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ ٧١

اور کہتے ہیں کب آئے گا یہ وعدہ اگر تم سچے ہو،

قُلْ عَسَىٰٓ أَن يَكُونَ رَدِفَ لَكُم بَعْضُ ٱلَّذِى تَسْتَعْجِلُونَ ٧٢

تم فرماؤ قریب ہے کہ تمہارے پیچھے آ لگی ہو بعض وہ چیز جس کی تم جلدی مچارہے ہو

وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى ٱلنَّاسِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَشْكُرُونَ ٧٣

اور بیشک تیرا رب فضل والا ہے آدمیوں پر لیکن اکثر آدمی حق نہیں مانتے

وَإِنَّ رَبَّكَ لَيَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُورُهُمْ وَمَا يُعْلِنُونَ ٧٤

اور بیشک تمہارا رب جانتا ہے جو ان کے سینوں میں چھپی ہے اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں

وَمَا مِنْ غَآئِبَةٍ فِى ٱلسَّمَآءِ وَٱلْأَرْضِ إِلَّا فِى كِتَٰبٍ مُّبِينٍ ٧٥

اور جتنے غیب ہیں آسمانوں اور زمین کے سب ایک بتانے والی کتاب میں ہیں

إِنَّ هَٰذَا ٱلْقُرْءَانَ يَقُصُّ عَلَىٰ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ أَكْثَرَ ٱلَّذِى هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ٧٦

بیشک یہ قرآن ذکر فرماتا ہے بنی اسرائیل سے اکثر وہ باتیں جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں

وَإِنَّهُۥ لَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ ٧٧

اور بیشک وہ ہدایت اور رحمت ہے مسلمانوں کے لیے،

إِنَّ رَبَّكَ يَقْضِى بَيْنَهُم بِحُكْمِهِۦ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْعَلِيمُ ٧٨

بیشک تمہارا رب ان کے آپس میں فیصلہ فرماتا ہے اپنے حکم سے اور وہی ہے عزت و الا علم والا،

فَتَوَكَّلْ عَلَى ٱللَّهِ إِنَّكَ عَلَى ٱلْحَقِّ ٱلْمُبِينِ ٧٩

تو تم اللہ پر بھروسہ کرو، بیشک تم روشن حق پر ہو،

إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ ٱلْمَوْتَىٰ وَلَا تُسْمِعُ ٱلصُّمَّ ٱلدُّعَآءَ إِذَا وَلَّوْا۟ مُدْبِرِينَ ٨٠

بیشک تمہارے سنائے نہیں سنتے مردے اور نہ تمہارے سنائے بہرے پکار سنیں جب پھریں پیٹھ دے کر

وَمَآ أَنتَ بِهَٰدِى ٱلْعُمْىِ عَن ضَلَٰلَتِهِمْ إِن تُسْمِعُ إِلَّا مَن يُؤْمِنُ بِـَٔايَٰتِنَا فَهُم مُّسْلِمُونَ ٨١

اور اندھوں کو گمراہی سے تم ہدایت کرنے والے نہیں، تمہارے سنائے تو وہی سنتے ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں اور ہو مسلمان ہیں،

وَإِذَا وَقَعَ ٱلْقَوْلُ عَلَيْهِمْ أَخْرَجْنَا لَهُمْ دَآبَّةً مِّنَ ٱلْأَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ أَنَّ ٱلنَّاسَ كَانُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا لَا يُوقِنُونَ ٨٢

اور جب بات ان پر آپڑے گی ہم زمین سے ان کے لیے ایک چوپایہ نکالیں گے جو لوگوں سے کلام کرے گا اس لیے کہ لوگ ہماری آیتوں پر ایمان نہ لاتے تھے

وَيَوْمَ نَحْشُرُ مِن كُلِّ أُمَّةٍ فَوْجًا مِّمَّن يُكَذِّبُ بِـَٔايَٰتِنَا فَهُمْ يُوزَعُونَ ٨٣

اور جس دن اٹھائیں گے ہم ہر گروہ میں سے ایک فوج جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتی ہے تو ان کے اگلے روکے جائیں گے کہ پچھلے ان سے آملیں،

حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءُو قَالَ أَكَذَّبْتُم بِـَٔايَٰتِى وَلَمْ تُحِيطُوا۟ بِهَا عِلْمًا أَمَّاذَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ٨٤

یہاں تک کہ جب سب حاضر ہولیں گے فرمائے گا کیا تم نے میری آیتیں جھٹلائیں حالانکہ تمہارا علم ان تک نہ پہنچتا تھا یا کیا کام کرتے تھے

وَوَقَعَ ٱلْقَوْلُ عَلَيْهِم بِمَا ظَلَمُوا۟ فَهُمْ لَا يَنطِقُونَ ٨٥

اور بات پڑچکی ان پر ان کے ظلم کے سبب تو وہ اب کچھ نہیں بولتے

أَلَمْ يَرَوْا۟ أَنَّا جَعَلْنَا ٱلَّيْلَ لِيَسْكُنُوا۟ فِيهِ وَٱلنَّهَارَ مُبْصِرًا إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَٰتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ ٨٦

کیا انہوں نے نہ دیکھا کہ ہم نے رات بنائی کہ اس میں آرام کریں اور دن کو بنایا سوجھانے والا، بیشک اس میں ضرور نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے کہ ایمان رکھتے ہیں

وَيَوْمَ يُنفَخُ فِى ٱلصُّورِ فَفَزِعَ مَن فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَن فِى ٱلْأَرْضِ إِلَّا مَن شَآءَ ٱللَّهُ وَكُلٌّ أَتَوْهُ دَٰخِرِينَ ٨٧

اور جس دن پھونکا جائے گا صُور تو گھبرائے جائیں گے جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں ہیں مگر جسے خدا چاہے اور سب اس کے حضور حاضر ہوئے عاجزی کرتے

وَتَرَى ٱلْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَهِىَ تَمُرُّ مَرَّ ٱلسَّحَابِ صُنْعَ ٱللَّهِ ٱلَّذِىٓ أَتْقَنَ كُلَّ شَىْءٍ إِنَّهُۥ خَبِيرٌۢ بِمَا تَفْعَلُونَ ٨٨

اور تو دیکھے گا پہاڑوں کو خیال کرے گا کہ وہ جمے ہوئے ہیں اور وہ چلتے ہوں گے بادل کی چال یہ کام ہے اللہ کا جس نے حکمت سے بنائی ہر چیز، بیشک اسے خبر ہے تمہارے کاموں کی،

مَن جَآءَ بِٱلْحَسَنَةِ فَلَهُۥ خَيْرٌ مِّنْهَا وَهُم مِّن فَزَعٍ يَوْمَئِذٍ ءَامِنُونَ ٨٩

جو نیکی لائے اس کے لیے اس سے بہتر صلہ ہے اور ان کو اس دن کی گھبراہٹ سے امان ہے

وَمَن جَآءَ بِٱلسَّيِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوهُهُمْ فِى ٱلنَّارِ هَلْ تُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ٩٠

اور جو بدی لائے تو ان کے منہ اوندھائے گئے آ گ میں تمہیں کیا بدلہ ملے گا مگر اسی کا جو کرتے تھے

إِنَّمَآ أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ رَبَّ هَٰذِهِ ٱلْبَلْدَةِ ٱلَّذِى حَرَّمَهَا وَلَهُۥ كُلُّ شَىْءٍ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ ٱلْمُسْلِمِينَ ٩١

مجھے تو یہی حکم ہوا ہے کہ پوجوں اس شہر کے رب کو جس نے اسے حرمت والا کیا ہے اور سب کچھ اسی کا ہے، اور مجھے حکم ہوا ہے کہ فرمانبرداروں میں ہوں،

وَأَنْ أَتْلُوَا۟ ٱلْقُرْءَانَ فَمَنِ ٱهْتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَهْتَدِى لِنَفْسِهِۦ وَمَن ضَلَّ فَقُلْ إِنَّمَآ أَنَا۠ مِنَ ٱلْمُنذِرِينَ ٩٢

اور یہ کہ قرآن کی تلاوت کروں تو جس نے راہ پائی اس نے اپنے بھلے کو راہ پائی اور جو بہکے تو فرمادو کہ میں تو یہی ڈر سنانے والا ہوں

وَقُلِ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ سَيُرِيكُمْ ءَايَٰتِهِۦ فَتَعْرِفُونَهَا وَمَا رَبُّكَ بِغَٰفِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ ٩٣

اور فرماؤ کہ سب خوبیاں اللہ کے لیے عنقریب وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھائے گا تو انہیں پہچان لو گے اور اے محبوب! تمہارا رب غافل نہیں، اے لوگو! تمہارے اعمال سے،

English translation (Pickthall) — full Surah

Ta. Sin. These are revelations of the Qur'an and a Scripture that maketh plain; A guidance and good tidings for believers Who establish worship and pay the poor-due and are sure of the Hereafter. Lo! as for those who believe not in the Hereafter, We have made their works fairseeming unto them so that they are all astray. Those are they for whom is the worst of punishment, and in the Hereafter they will be the greatest losers. Lo! as for thee (Muhammad), thou verily receivest the Qur'an from the presence of One Wise, Aware. (Remember) when Moses said unto his household: Lo! I spy afar off a fire; I will bring you tidings thence, or bring to you a borrowed flame that ye may warm yourselves. But when he reached it, he was called, saying: Blessed is Whosoever is in the fire and Whosoever is round about it! And Glorified be Allah, the Lord of the Worlds! O Moses! Lo! it is I, Allah, the Mighty, the Wise. And throw down thy staff! But when he saw it writhing as it were a demon, he turned to flee headlong; (but it was said unto him): O Moses! Fear not! the emissaries fear not in My presence, Save him who hath done wrong and afterward hath changed evil for good. And lo! I am Forgiving, Merciful. And put thy hand into the bosom of thy robe, it will come forth white but unhurt. (This will be one) among nine tokens unto Pharaoh and his people Lo! they were ever evil-living folk. But when Our tokens came unto them, plain to see, they said: This is mere magic, And they denied them, though their souls acknowledged them, for spite and arrogance. Then see the nature of the consequence for the wrong-doers! And We verily gave knowledge unto David and Solomon, and they said: Praise be to Allah, Who hath preferred us above many of His believing slaves! And Solomon was David's heir. And he said: O mankind! Lo! we have been taught the language of birds, and have been given (abundance) of all things. This surely is evident favour. And there were gathered together unto Solomon his armies of the jinn and humankind, and of the birds, and they were set in battle order; Till, when they reached the Valley of the Ants, an ant exclaimed: O ants! Enter your dwellings lest Solomon and his armies crush you, unperceiving. And (Solomon) smiled, laughing at her speech, and said: My Lord, arouse me to be thankful for Thy favour wherewith Thou hast favoured me and my parents, and to do good that shall be pleasing unto Thee, and include me in (the number of) Thy righteous slaves. And he sought among the birds and said: How is it that I see not the hoopoe, or is he among the absent? I verily will punish him with hard punishment or I verily will slay him, or he verily shall bring me a plain excuse. But he was not long in coming, and he said: I have found out (a thing) that thou apprehendest not, and I come unto thee from Sheba with sure tidings. Lo! I found a woman ruling over them, and she hath been given (abundance) of all things, and hers is a mighty throne. I found her and her people worshipping the sun instead of Allah; and Satan maketh their works fairseeming unto them, and debarreth them from the way (of Truth), so that they go not aright; So that they worship not Allah, Who bringeth forth the hidden in the heavens and the earth, and knoweth what ye hide and what ye proclaim, Allah; there is no Allah save Him, the Lord of the Tremendous Throne. (Solomon) said: We shall see whether thou speakest truth or whether thou art of the liars. Go with this my letter and throw it down unto them; then turn away and see what (answer) they return, (The Queen of Sheba) said (when she received the letter): O chieftains! Lo! there hath been thrown unto me a noble letter. Lo! it is from Solomon, and lo! it is: In the name of Allah, the Beneficent, the Merciful; Exalt not yourselves against me, but come unto me as those who surrender. She said: O chieftains! Pronounce for me in my case. I decide no case till ye are present with me. They said: We are lords of might and lords of great prowess, but it is for thee to command; so consider what thou wilt command. She said: Lo! kings, when they enter a township, ruin it and make the honour of its people shame. Thus will they do. But lo! I am going to send a present unto them, and to see with what (answer) the messengers return. So when (the envoy) came unto Solomon, (the King) said: What! Would ye help me with wealth? But that which Allah hath given me is better than that which He hath given you. Nay it is ye (and not I) who exult in your gift. Return unto them. We verily shall come unto them with hosts that they cannot resist, and we shall drive them out from thence with shame, and they will be abased. He said: O chiefs! Which of you will bring me her throne before they come unto me, surrendering? A stalwart of the jinn said: I will bring it thee before thou canst rise from thy place. Lo! I verily am strong and trusty for such work. One with whom was knowledge of the Scripture said: I will bring it thee before thy gaze returneth unto thee. And when he saw it set in his presence, (Solomon) said: This is of the bounty of my Lord, that He may try me whether I give thanks or am ungrateful. Whosoever giveth thanks he only giveth thanks for (the good of) his own soul; and whosoever is ungrateful (is ungrateful only to his own soul's hurt). For lo! my Lord is Absolute in independence, Bountiful. He said: Disguise her throne for her that we may see whether she will go aright or be of those not rightly guided. So, when she came, it was said (unto her): Is thy throne like this? She said: (It is) as though it were the very one. And (Solomon said): We were given the knowledge before her and we had surrendered (to Allah). And (all) that she was wont to worship instead of Allah hindered her, for she came of disbelieving folk. It was said unto her: Enter the hall. And when she saw it she deemed it a pool and bared her legs. (Solomon) said: Lo! it is a hall, made smooth, of glass. She said: My Lord! Lo! I have wronged myself, and I surrender with Solomon unto Allah, the Lord of the Worlds. And We verily sent unto Thamud their brother Salih, saying: Worship Allah. And lo! they (then became two parties quarrelling. He said: O my people! Why will ye hasten on the evil rather than the good? Why will ye not ask pardon of Allah, that ye may receive mercy. They said: We augur evil of thee and those with thee. He said: Your evil augury is with Allah. Nay, but ye are folk that are being tested. And there were in the city nine persons who made mischief in the land and reformed not. They said: Swear one to another by Allah that we verily will attack him and his household by night, and afterward we will surely say unto his friend: We witnessed not the destruction of his household. And lo! we are truthtellers. So they plotted a plot: and We plotted a plot, while they perceived not. Then see the nature of the consequence of their plotting, for lo! We destroyed them and their people, every one. See, yonder are their dwellings empty and in ruins because they did wrong. Lo! herein is indeed a portent for a people who have knowledge. And we saved those who believed and used to ward off (evil). And Lot! when he said unto his folk: Will ye commit abomination knowingly? Must ye needs lust after men instead of women? Nay, but ye are folk who act senselessly. But the answer of his folk was naught save that they said: Expel the household of Lot from your township, for they (forsooth) are folk who would keep clean! Then We saved him and his household save his wife; We destined her to be of those who stayed behind. And We rained a rain upon them. Dreadful is the rain of those who have been warned. Say (O Muhammad): Praise be to Allah, and peace be on His slaves whom He hath chosen! Is Allah best, or (all) that ye ascribe as partners (unto Him)? Is not He (best) Who created the heavens and the earth, and sendeth down for you water from the sky wherewith We cause to spring forth joyous orchards, whose trees it never hath been yours to cause to grow. Is there any Allah beside Allah? Nay, but they are folk who ascribe equals (unto Him)! Is not He (best) Who made the earth a fixed abode, and placed rivers in the folds thereof, and placed firm hills therein, and hath set a barrier between the two seas? Is there any Allah beside Allah? Nay, but most of them know not! Is not He (best) Who answereth the wronged one when he crieth unto Him and removeth the evil, and hath made you viceroys of the earth? Is there any Allah beside Allah? Little do they reflect! Is not He (best) Who guideth you in the darkness of the land and the sea, He Who sendeth the winds as heralds of His mercy? Is there any Allah beside Allah? High Exalted be Allah from all that they ascribe as partner (unto Him)! Is not He (best) Who produceth creation, then reproduceth it, and Who provideth for you from the heaven and the earth? Is there any Allah beside Allah? Say: Bring your proof, if ye are truthful! Say (O Muhammad): None in the heavens and the earth knoweth the Unseen save Allah; and they know not when they will be raised (again). Nay, but doth their knowledge reach to the Hereafter? Nay, for they are in doubt concerning it. Nay, for they cannot see it. Yet those who disbelieve say: When we have become dust like our fathers, shall we verily be brought forth (again)? We were promised this, forsooth, we and our fathers. (All) this is naught but fables of the men of old. Say (unto them, O Muhammad): Travel in the land and see the nature of the sequel for the guilty! And grieve thou not for them, nor be in distress because of what they plot (against thee). And they say: When (will) this promise (be fulfilled), if ye are truthful? Say: It may be that a part of that which ye would hasten on is close behind you. Lo! thy Lord is full of bounty for mankind, but most of them do not give thanks. Lo! thy Lord knoweth surely all that their bosoms hide, and all that they proclaim. And there is nothing hidden in the heaven or the earth but it is in a clear Record. Lo! this Qur'an narrateth unto the Children of Israel most of that concerning which they differ. And lo! it is a guidance and a mercy for believers. Lo! thy Lord will judge between them of His wisdom, and He is the Mighty, the Wise. Therefor (O Muhammad) put thy trust in Allah, for thou (standest) on the plain Truth. Lo! thou canst not make the dead to hear, nor canst thou make the deaf to hear the call when they have turned to flee; Nor canst thou lead the blind out of their error. Thou canst make none to hear, save those who believe Our revelations and who have surrendered. And when the word is fulfilled concerning them, We shall bring forth a beast of the earth to speak unto them because mankind had not faith in Our revelations. And (remind them of) the Day when We shall gather out of every nation a host of those who denied Our revelations, and they will be set in array; Till, when they come (before their Lord), He will say: Did ye deny My revelations when ye could not compass them in knowledge, or what was it that ye did? And the Word will be fulfilled concerning them because they have done wrong, and they will not speak. Have they not seen how We have appointed the night that they may rest therein, and the day sight-giving? Lo! therein verily are portents for a people who believe. And (remind them of) the Day when the Trumpet will be blown, and all who are in the heavens and the earth will start in fear, save him whom Allah willeth. And all come unto Him, humbled. And thou seest the hills thou deemest solid flying with the flight of clouds: the doing of Allah Who perfecteth all things. Lo! He is Informed of what ye do. Whoso bringeth a good deed will have better than its worth; and such are safe from fear that Day. And whoso bringeth an ill-deed, such will be flung down on their faces in the Fire. Are ye rewarded aught save what ye did? (Say): I (Muhammad) am commanded only to serve the Lord of this land which He hath hallowed, and unto Whom all things belong. And I am commanded to be of those who surrender (unto Him), And to recite the Qur'an. And whoso goeth right, goeth right only for (the good of) his own soul; and as for him who goeth astray - (Unto him) say: Lo! I am only a warner. And say: Praise be to Allah Who will show you His portents so that ye shall know them. And thy Lord is not unaware of what ye (mortals) do.

About this Surah

Surah An-Naml is a Makki Surah with 93 verses. The story of Sulayman, the ant, and the Queen of Sheba.

Sources

Arabic text: Tanzil Project (Uthmani script, CC-BY 3.0). Urdu translation: Kanz-ul-Iman. English translation: Marmaduke Pickthall. Arabic text is reproduced unchanged.