Surah Al-Qalam — الْقَلَمِ
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بہت مہربان رحمت والانٓ وَٱلْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ ١
قلم اور ان کے لکھے کی قسم
مَآ أَنتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونٍ ٢
تم اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں
وَإِنَّ لَكَ لَأَجْرًا غَيْرَ مَمْنُونٍ ٣
اور ضرور تمہارے لیے بے انتہا ثواب ہے
وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ ٤
اور بیشک تمہاری خُو بُو (خُلق) بڑی شان کی ہے
فَسَتُبْصِرُ وَيُبْصِرُونَ ٥
تو اب کوئی دم جاتا ہے کہ تم بھی دیکھ لو گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے
بِأَييِّكُمُ ٱلْمَفْتُونُ ٦
کہ تم میں کون مجنون تھا،
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِۦ وَهُوَ أَعْلَمُ بِٱلْمُهْتَدِينَ ٧
بیشک تمہارا رب خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بہکے، اور وہ خوب جانتا ہے جو راہ پر ہے،
فَلَا تُطِعِ ٱلْمُكَذِّبِينَ ٨
تو جھٹلانے والوں کی بات نہ سننا،
وَدُّوا۟ لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ ٩
وہ تو اس آرزو میں ہیں کہ کسی طرح تم نرمی کرو تو وہ بھی نرم پڑجائیں،
وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِينٍ ١٠
اور ہر ایسے کی بات نہ سننا جو بڑا قسمیں کھانے والا ذلیل
هَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِيمٍ ١١
بہت طعنے دینے والا بہت اِدھر کی اُدھر لگاتا پھرنے والا
مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ ١٢
بھلائی سے بڑا روکنے والا حد سے بڑھنے والا گنہگار
عُتُلٍّۭ بَعْدَ ذَٰلِكَ زَنِيمٍ ١٣
درشت خُو اس سب پر طرہ یہ کہ اس کی اصل میں خطا
أَن كَانَ ذَا مَالٍ وَبَنِينَ ١٤
اس پر کہ کچھ مال اور بیٹے رکھتا ہے،
إِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِ ءَايَٰتُنَا قَالَ أَسَٰطِيرُ ٱلْأَوَّلِينَ ١٥
جب اس پر ہماری آیتیں پڑھی جائیں کہتا ہے کہ اگلوں کی کہانیاں ہیں
سَنَسِمُهُۥ عَلَى ٱلْخُرْطُومِ ١٦
قریب ہے کہ ہم اس کی سور کی سی تھوتھنی پر داغ دیں گے
إِنَّا بَلَوْنَٰهُمْ كَمَا بَلَوْنَآ أَصْحَٰبَ ٱلْجَنَّةِ إِذْ أَقْسَمُوا۟ لَيَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِينَ ١٧
بیشک ہم نے انہیں جانچا جیسا اس باغ والوں کو جانچا تھا جب انہوں نے قسم کھائی کہ ضرور صبح ہوتے اس کھیت کو کاٹ لیں گے
وَلَا يَسْتَثْنُونَ ١٨
اور انشاء اللہ نہ کہا
فَطَافَ عَلَيْهَا طَآئِفٌ مِّن رَّبِّكَ وَهُمْ نَآئِمُونَ ١٩
تو اس پر تیرے رب کی طرف سے ایک پھیری کرنے والا پھیرا کر گیا اور وہ سوتے تھے،
فَأَصْبَحَتْ كَٱلصَّرِيمِ ٢٠
تو صبح رہ گیا جیسے پھل ٹوٹا ہوا
فَتَنَادَوْا۟ مُصْبِحِينَ ٢١
پھر انہوں نے صبح ہوتے ایک دوسرے کو پکارا،
أَنِ ٱغْدُوا۟ عَلَىٰ حَرْثِكُمْ إِن كُنتُمْ صَٰرِمِينَ ٢٢
کہ تڑکے اپنی کھیتی چلو اگر تمہیں کاٹنی ہے،
فَٱنطَلَقُوا۟ وَهُمْ يَتَخَٰفَتُونَ ٢٣
تو چلے اور آپس میں آہستہ آہستہ کہتے جاتے تھے کہ
أَن لَّا يَدْخُلَنَّهَا ٱلْيَوْمَ عَلَيْكُم مِّسْكِينٌ ٢٤
ہرگز آج کوئی مسکین تمہارے باغ میں آنے نہ پائے،
وَغَدَوْا۟ عَلَىٰ حَرْدٍ قَٰدِرِينَ ٢٥
اور تڑکے چلے اپنے اس ارادہ پر قدرت سمجھتے
فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُوٓا۟ إِنَّا لَضَآلُّونَ ٢٦
پھر جب اسے بولے بیشک ہم راستہ بہک گئے
بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ ٢٧
بلکہ ہم بے نصیب ہوئے
قَالَ أَوْسَطُهُمْ أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ لَوْلَا تُسَبِّحُونَ ٢٨
ان میں جو سب سے غنیمت تھا بولا کیا میں تم سے نہیں کہتا تھا کہ تسبیح کیوں نہیں کرتے
قَالُوا۟ سُبْحَٰنَ رَبِّنَآ إِنَّا كُنَّا ظَٰلِمِينَ ٢٩
بولے پاکی ہے ہمارے رب کو بیشک ہم ظالم تھے،
فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ يَتَلَٰوَمُونَ ٣٠
اب ایک دوسرے کی طرف ملامت کرتا متوجہ ہوا
قَالُوا۟ يَٰوَيْلَنَآ إِنَّا كُنَّا طَٰغِينَ ٣١
بولے ہائے خرابی ہماری بیشک ہم سرکش تھے
عَسَىٰ رَبُّنَآ أَن يُبْدِلَنَا خَيْرًا مِّنْهَآ إِنَّآ إِلَىٰ رَبِّنَا رَٰغِبُونَ ٣٢
امید ہے ہمیں ہمارا رب اس سے بہتر بدل دے ہم اپنے رب کی طرف رغبت لاتے ہیں
كَذَٰلِكَ ٱلْعَذَابُ وَلَعَذَابُ ٱلْـَٔاخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُوا۟ يَعْلَمُونَ ٣٣
مار ایسی ہوتی ہے اور بیشک آخرت کی مار سب سے بڑی، کیا اچھا تھا اگر وہ جانتے
إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ عِندَ رَبِّهِمْ جَنَّٰتِ ٱلنَّعِيمِ ٣٤
بیشک ڈر والوں کے لیے ان کے رب کے پاس چین کے باغ ہیں
أَفَنَجْعَلُ ٱلْمُسْلِمِينَ كَٱلْمُجْرِمِينَ ٣٥
کیا ہم مسلمانوں کو مجرموں کا سا کردیں
مَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ ٣٦
تمہیں کیا ہوا کیسا حکم لگاتے ہو
أَمْ لَكُمْ كِتَٰبٌ فِيهِ تَدْرُسُونَ ٣٧
کیا تمہارے لیے کوئی کتاب ہے اس میں پڑھتے ہو،
إِنَّ لَكُمْ فِيهِ لَمَا تَخَيَّرُونَ ٣٨
کہ تمہارے لیے اس میں جو تم پسند کرو،
أَمْ لَكُمْ أَيْمَٰنٌ عَلَيْنَا بَٰلِغَةٌ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَٰمَةِ إِنَّ لَكُمْ لَمَا تَحْكُمُونَ ٣٩
یا تمہارے لیے ہم پر کچھ قسمیں ہیں قیامت تک پہنچتی ہوئی کہ تمہیں ملے گا جو کچھ دعویٰ کرتے ہو
سَلْهُمْ أَيُّهُم بِذَٰلِكَ زَعِيمٌ ٤٠
تم ان سے پوچھو ان میں کون سا اس کا ضامن ہے
أَمْ لَهُمْ شُرَكَآءُ فَلْيَأْتُوا۟ بِشُرَكَآئِهِمْ إِن كَانُوا۟ صَٰدِقِينَ ٤١
یا ان کے پاس کچھ شریک ہیں تو اپنے شریکوں کو لے کر آئیں اگر سچے ہیں
يَوْمَ يُكْشَفُ عَن سَاقٍ وَيُدْعَوْنَ إِلَى ٱلسُّجُودِ فَلَا يَسْتَطِيعُونَ ٤٢
جس دن ایک ساق کھولی جائے گی (جس کے معنی اللہ ہی جانتا ہے) اور سجدہ کو بلائے جائیں گے تو نہ کرسکیں گے
خَٰشِعَةً أَبْصَٰرُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ وَقَدْ كَانُوا۟ يُدْعَوْنَ إِلَى ٱلسُّجُودِ وَهُمْ سَٰلِمُونَ ٤٣
نیچی نگاہیں کیے ہوئے ان پر خواری چڑھ رہی ہوگی، اور بیشک دنیا میں سجدہ کے لیے بلائے جاتے تھے جب تندرست تھے
فَذَرْنِى وَمَن يُكَذِّبُ بِهَٰذَا ٱلْحَدِيثِ سَنَسْتَدْرِجُهُم مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ ٤٤
تو جو اس بات کو جھٹلاتا ہے اسے مجھ پر چھوڑ دو قریب ہے کہ ہم انہیں آہستہ آہستہ لے جائیں گے جہاں سے انہیں خبر نہ ہوگی،
وَأُمْلِى لَهُمْ إِنَّ كَيْدِى مَتِينٌ ٤٥
اور میں انہیں ڈھیل دوں گا، بیشک میری خفیہ تدبیر بہت پکی ہے
أَمْ تَسْـَٔلُهُمْ أَجْرًا فَهُم مِّن مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُونَ ٤٦
یا تم ان سے اجرت مانگتے ہو کہ وہ چٹی کے بوجھ میں دبے ہیں
أَمْ عِندَهُمُ ٱلْغَيْبُ فَهُمْ يَكْتُبُونَ ٤٧
یا ان کے پاس غیب ہے کہ وہ لکھ رہے ہیں
فَٱصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلَا تَكُن كَصَاحِبِ ٱلْحُوتِ إِذْ نَادَىٰ وَهُوَ مَكْظُومٌ ٤٨
تو تم اپنے رب کے حکم کا انتظار کر و اور اس مچھلی والے کی طرح نہ ہونا جب اس حال میں پکارا کہ اس کا دل گھٹ رہا تھا
لَّوْلَآ أَن تَدَٰرَكَهُۥ نِعْمَةٌ مِّن رَّبِّهِۦ لَنُبِذَ بِٱلْعَرَآءِ وَهُوَ مَذْمُومٌ ٤٩
اگر اس کے رب کی نعمت اس کی خبر کو نہ پہنچ جاتی تو ضرور میدان پر پھینک دیا جاتا الزام دیا ہوا
فَٱجْتَبَٰهُ رَبُّهُۥ فَجَعَلَهُۥ مِنَ ٱلصَّٰلِحِينَ ٥٠
تو اسے اس کے رب نے چن لیا اور اپنے قربِ خاص کے سزاواروں (حقداروں) میں کرلیا،
وَإِن يَكَادُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَيُزْلِقُونَكَ بِأَبْصَٰرِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا۟ ٱلذِّكْرَ وَيَقُولُونَ إِنَّهُۥ لَمَجْنُونٌ ٥١
اور ضرور کافر تو ایسے معلوم ہوتے ہیں کہ گویا اپنی بد نظر لگا کر تمہیں گرادیں گے جب قرآن سنتے ہیں اور کہتے ہیں یہ ضرور عقل سے دور ہیں،
وَمَا هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعَٰلَمِينَ ٥٢
اور وہ تو نہیں مگر نصیحت سارے جہاں کے لیے
English translation (Pickthall) — full Surah
Nun. By the pen and that which they write (therewith), Thou art not, for thy Lord's favour unto thee, a madman. And lo! thine verily will be a reward unfailing. And lo! thou art of a tremendous nature. And thou wilt see and they will see Which of you is the demented. Lo! thy Lord is Best Aware of him who strayeth from His way, and He is Best Aware of those who walk aright. Therefor obey not thou the rejecters Who would have had thee compromise, that they may compromise. Neither obey thou each feeble oath-monger, Detracter, spreader abroad of slanders, Hinderer of the good, transgressor, malefactor Greedy therewithal, intrusive. It is because he is possessed of wealth and children That, when Our revelations are recited unto him, he saith: Mere fables of the men of old. We shall brand him on the nose. Lo! We have tried them as We tried the owners of the garden when they vowed that they would pluck its fruit next morning, And made no exception (for the Will of Allah); Then a visitation from thy Lord came upon it while they slept And in the morning it was as if plucked. And they cried out one unto another in the morning, Saying: Run unto your field if ye would pluck (the fruit). So they went off, saying one unto another in low tones: No needy man shall enter it to-day against you. They went betimes, strong in (this) purpose. But when they saw it, they said: Lo! we are in error! Nay, but we are desolate! The best among them said: Said I not unto you: Why glorify ye not (Allah)? They said: Glorified be our Lord! Lo! we have been wrong-doers. Then some of them drew near unto others, self-reproaching. They said: Alas for us! In truth we were outrageous. It may be that our Lord will give us better than this in place thereof. Lo! we beseech our Lord. Such was the punishment. And verily the punishment of the Hereafter is greater if they did but know. Lo! for those who keep from evil are gardens of bliss with their Lord. Shall We then treat those who have surrendered as We treat the guilty? What aileth you? How foolishly ye judge! Or have ye a scripture wherein ye learn That ye shall indeed have all that ye choose? Or have ye a covenant on oath from Us that reacheth to the Day of Judgment, that yours shall be all that ye ordain? Ask them (O Muhammad) which of them will vouch for that! Or have they other gods? Then let them bring their other gods if they are truthful On the day when it befalleth in earnest, and they are ordered to prostrate themselves but are not able, With eyes downcast, abasement stupefying them. And they had been summoned to prostrate themselves while they were yet unhurt. Leave Me (to deal) with those who give the lie to this pronouncement. We shall lead them on by steps from whence they know not. Yet I bear with them, for lo! My scheme is firm. Or dost thou (Muhammad) ask a fee from them so that they are heavily taxed? Or is the Unseen theirs that they can write (thereof)? But wait thou for thy Lord's decree, and be not like him of the fish, who cried out in despair. Had it not been that favour from his Lord had reached him he surely had been cast into the wilderness while he was reprobate. But his Lord chose him and placed him among the righteous. And lo! those who disbelieve would fain disconcert thee with their eyes when they hear the Reminder, and they say: Lo! he is indeed mad; When it is naught else than a Reminder to creation.
About this Surah
Surah Al-Qalam is a Makki Surah with 52 verses. The Pen, and the character of the Prophet.
Sources
Arabic text: Tanzil Project (Uthmani script, CC-BY 3.0). Urdu translation: Kanz-ul-Iman. English translation: Marmaduke Pickthall. Arabic text is reproduced unchanged.